پشاور کے نجی ہوٹل میں 12 ربیع الاول کے موقع پر رحمت للعالمین ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں شریک افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے پاکستان کے قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ کر تنقید کو جنم دے دیا۔
تقریب میں وزیراعلی خیبرپختونخوا سمیت کئی سرکاری عہدے دار شریک ہوئےجبکہ کانفرنس میں افغان قونصل جنرل کو بھی بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔
کانفرنس کے آغاز میں قومی ترانہ پیش کیا گیا، قومی ترانے کے دوران وزیراعلی سمیت تمام شخصیات احترام میں کھڑے ہوگئے، تاہم افغان کونصل جنرل پاکستانی قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہ ہوئے اور اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔
اس واقعے پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغانستان کے قائم مقام قونصل جنرل کی جانب سے قومی ترانے کے احترام میں کھڑا نہ ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فعل سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ ’میزبان ملک کے قومی ترانے کی بے عزتی سفارتی اصولوں کے خلاف ہے، افغانستان کے قائم مقام قونصل جنرل کا یہ فعل قابل مذمت ہے۔‘

بعدازاں قومی ترانے کی بے ادبی کے معاملے پر دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیدیا گیا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان قونصل جنرل کا قومی ترانے کے احترام میں کھڑا نہ ہونا سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی آداب کے تحت کسی بھی ملک کا سفارتی عملہ تعیناتی کے دوران میزبان ملک کے قوانین پر عملدرآمد کا پابند ہے۔
افغان قونصل جنرل کا مؤقف
افغان قونصل خانے کے ترجمان شاہد اللہ ظہیر نے واقعے پر اپنا موقف دیتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کے قومی ترانے کی بے توقیری ہرگز مطلب نہیں تھی لیکن ترانے میں موسیقی ہونے کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوئے تھے۔
شاہد اللہ نے بتایا، ’افغانستان کے ترانے پر موسیقی کی وجہ سے پابندی لگی ہے، اگر ترانہ بچے گاتے تو سفارتکار احتراماً کھڑے ہو سکتے تھے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان یا قومی ترانے کی توہین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر ترانہ بغیر میوزک کے پیش کیا جاتا تو قونصل جنرل لازمی کھڑے ہوتے اورسینے پر ہاتھ بھی رکھتے۔

