چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمشنر راولپنڈی کے بیان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے بنیاد الزام لگا دیں لیکن ان میں ذرا سی بھی صداقت ہو ثبوت پیش کریں
نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ الزامات تو کوئی کچھ بھی لگا سکتا ہے، الزام لگانا آپ کا حق ہے تو ثبوت بھی دے دیں، یہاں کچھ بھی الزام لگا دیں، کل کو چوری کا الزام لگا دیں، ثبوت بھی پیش کریں، کل کو قتل کا الزام لگادیں، الزام لگانا حق ہے تو فرائض بھی دے دیں،

کچھ ثبوت بھی دے دیں،چیف جسٹس کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،جب تک کیس کا فیصلہ نہ ہو میں ان کیسز پر بات نہیں کرتا،الزام لگانے والوں کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں،
واضح رہے کہ کمشنر راولپنڈی نے عام انتخابات کے ہونے والی دھاندلی کو بے نقاب کر دیا،کمشنر راولپنڈی نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے اور عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا ، کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ مجھے اور چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کو کچہری چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے ،میں نے آج صبح فجر کی نماز کی بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی،پھر سوچا کیوںنہ چیزیں عوام کے سامنے رکھوں، میں کرب سے گزر رہا ہوں، بیورو کریسی سے گزارش ہے کہ سیاسی لوگ جو شیروانیاں سلوا کر غلط کام کر رہے ہیں انکے کے لئے کوئی غلط کام نہ کریں،میں نے پوری قوم کے ساتھ ظلم کیا ہے،میں اپنے ریٹرننگ افسران سے معافی مانگتا ہوں