اسلام آباد (فاروق اقدس/خصوصی رپورٹ) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس بریفنگ میں بطور خاص پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کے طور پر مریم نواز کے انتخاب کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستانی سیاست میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

مسلم لیگ (ن) کے حامی حلقوں میں ان کے قائد کی صاحبزادی کے حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے خیالات یقیناً فخریہ ہونے کی حد تک باعث مسرت ہوں گے، مریم نواز میں دلچسپی ، امریکا ن لیگ کو مستقبل کی بڑی سیاسی قوت کے طور پر دیکھ رہا ہے، نواز کے دورہ امریکا پر مریم کے سیاسی کیرئیر کا آغاز ، امریکی خاتون اول سےبھی ملی تھیں۔
کم وبیش ایک دہائی قبل وائٹ ہاؤس میں امریکا کی خاتون اول مشعل اوباما اور مریم نواز کے درمیان ہونے والی ملاقات جس کا اہتمام خصوصی طور پر وائٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا اور اس کے بعد ہونے والی منعقدہ تقریب سے مشترکہ خطاب، کم لوگوں کی یاداشت میں ہوگا۔
’’لڑکیوں کو پڑھنے دو‘‘ کے عنوان سے ہونے والی تقریب بنیادی طور پر ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق تھی۔
2015 اکتوبر کے آخری ہفتے میں وزیراعظم نواز شریف امریکا کے سرکاری دورے پر تھے اور مریم نواز ان کے ہمراہ تھیں۔
اس موقع پر امریکی صدر کے خصوصی نمائندے برائے جنوبی ایشیا پیٹر لیوے نے مریم نواز سے ملاقات کرکے انہیں امریکی خاتون اول مشعل اوباما کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور باضابطہ دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مشعل اوباما آپ کے ساتھ مل کر پاکستان میں تعلیم کے فروغ پر کام کرنے کی خواہاں ہیں۔ جس کے فوری بعد اس تقریب کا انعقاد ہوا اور اس وقت کی خاتون اول مشعل اوباما اور مریم نواز نے میڈیا اور دیگر شرکاء کے سامنے کھڑے ہوکر خطاب کیا۔
اس ساری صورتحال کے بارے میں اس وقت ایک انگریزی جریدے نے مشعل اوباما اور مریم نواز کی بے تکلفانہ ملاقات اور اس کے ذریعے دور رس مقاصد کے اہداف حاصل کرنے کے بارے میں ایک تجزیاتی رپورٹ بھی شائع کی تھی جس میں تحریر تھا کہ پاکستان میں میڈیا کی پوری توجہ واشنگٹن میں وزیراعظم نواز شریف کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات پر تھی۔
تاہم دونوں ممالک کی سرگرمیاں اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات تک محدود نہیں تھیں کیونکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اور حصے میں دختر اول مریم نواز اپنا عالمی سیاسی کیریئر شروع کر رہی تھیں۔
اس تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے اوباما کی اہلیہ مشعل کے ہمراہ کھڑے ہو کر بچیوں کی تعلیم پر پہلی مرتبہ تقریر کی۔