مخصوص نشستیں،الیکشن کمیشن میں سماعت،بیرسٹر علی ظفر کے دلائل

سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول کا معاملہ،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی،

بیرسٹر گوہر علی خان اور صاحبزادہ حامد رضا کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر، حامد خان اور کامران مرتضیٰ بھی موجود تھے، اعظم نزیر تارڑ، بیرسٹر فروغ نسیم، فاروق ایچ نائیک بھی پیش ہوئے،بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے دلائل دیئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ،آپ نے ساری پارٹیوں کو نوٹس کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو اگر حکمنامہ جاری ہو تو پارٹیز کیسے تیاری کرکے صبح آسکتی ہیں، یہ ایک بے معنی مشق ہوگا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے صرف متعلقہ پارٹیز کو بلایا ہے،

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم سیٹیں چاہتی ہے لیکن انہوں نے درخواست میں سیٹوں کی بات نہیں کی،وہ ایک الگ درخواست دیں تاکہ مجھے پتہ ہو کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حقیقت یہ ہے کہ میری درخواست تب لگی جب یہ درخواستیں آئیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کی درخواست پر تین میٹنگز ہوئیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سماعت کی ضرورت تب آتی ہے جب ذہن میں ابہام ہو، سپریم کورٹ میں خدشے کا اظہار کیا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ وہ پارٹی جوائن کریں گے تو نشستیں مل جائیں گی، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہیں یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل نے بھی یہ کہا تھا کہ انتخابی نشان نہیں ہوگا تو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، اگر ریکارڈنگز پہ جانا ہے تو بہت کچھ سننا پڑے گا،

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی اور ہم سب سے زیادہ تعداد میں اسمبلی میں آئے، آزاد امیدواروں نے کے پی کے میں بہت زیادہ سیٹیں حاصل کیں ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ کے پی کے کوئی نام نہیں ہے خیبرپختونخوا نام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں جیتے،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی چیزیں پہلی بار ہوئی ہیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 86آزاد اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کیا،بسندھ میں 9،پنجاب میں107اور خبیرپختوانخوا کے90ایم پی ایز نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی،

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی 23 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن تاحال روکے ہوئے ہے، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری یہ کہتے ہوئے واپس بھجوا دی ہے کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کریں پھر قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے