پاکستان کے الیکشن میں بےضابطگیوں کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں: امریکہ

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے الیکشن میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
پیر کو واشنگٹن میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران جب محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے پاکستان میں انتخابات کے بعد بننے والی صورت حال کے حوالے سے پوچھا گیا گیا کہ ’فراڈ کی مبینہ کوششوں کے باوجود عمران خان فاتح کے طور پر سامنے آئے ہیں، اس پر آپ کا تجزیہ کیا ہے؟‘ اس کے جواب میں انہوں نے اپنے 10 فروری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ردعمل دیا جا چکا ہے۔‘
تاہم جب رپورٹر کی جانب سے اصرار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جہاں تک بے ضابطگیوں کی بات ہے تو اس پر ہم عوامی اور نجی سطح پر بھی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ یورپی یونین اور برطانیہ کے تحفظات کی تائید بھی کی ہے۔‘
’انتخابات میں جن بعض بے ضابطگیوں کا ہم نے مشاہدہ کیا اس سے پاکستان کی حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ عوامی رائے کا احترام کیا جائے۔‘
میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’ہم انتخابات کے موقع پر تشدد کے واقعات، انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی بندش کی مذمت کرتے ہیں۔
‘
’ان سے الیکشن انتخابی پراسس پر منفی اثرات پڑے، انتخابات میں مداخلت اور دھوکے کے بڑھتے دعوؤں کے بعد پاکستان کے قانونی نظام کو چاہیے کہ وہ ان کی تحقیقات کرے، جس کا ہم آنے والے دنوں میں قریب سے مشاہدہ کریں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ پاکستان کی ایسی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہو گا جس پر بے ضابطیوں اور دھوکہ دہی کے الزامات ہوں؟
اس پر میتھیو ملر نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ابھی تک وہاں نئی حکومت بنی ہے اور وہاں اس کے قیام کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے، تاہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام جس کو بھی نمائندگی کے لیے چنیں گے، ہم اس کے ساتھ کام کریں گے۔‘
ان کے مطابق ’جہاں تک بات الزامات کی ہے، تو ان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
سابق گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر لاہور سے کامیاب ہونے والے سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بننے سے کوئی مائی کا لال نہیں روک سکتا۔
منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں سردار لطیف کھوسہ نے دعوٰی کیا کہ انہیں آزاد امیدوار کہنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
’ہمارے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی لکھا ہوا ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کے بغیر کوئی پارلیمنٹ چل سکتی ہے نہ جمہوریت اور نہ ہی کوئی حکومت بن سکتی ہے۔
’یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دیں کہ عمران خان کو مائنس کر کے جمہوریت چلا لیں گے، ان کو دوبارہ لانا ہی پڑے گا۔‘
ان کے مطابق ’چونکہ پی ٹی آئی لارجسٹ پارٹی ہے اس لیے عمران خان ہی ہمارے وزیراعظم ہوں گے۔

پاکستان میں انتخابات کے بعد سے سٹاک ایکسچینج میں مسلسل مندی دیکھی جا رہی ہے اور انڈیکس میں 939 پوائنٹس کی کمی ہوئی جو ڈیڑھ فیصد کے برابر ہے۔ اسی طرح تین سیشنز میں مجموعی طور پر چار ہزار 17 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور انڈیکس چھ اعشاریہ دو فیصد تک نیچے آیا۔

دھوکہ دہی کے کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔

منگل کو ڈسٹرکٹ سیشن کورٹس اسلام آباد نے مالی فراڈ کیس میں سول جج سہیل تھیہم کی عدالت میں فراڈ کیس کی سماعت ہوئی۔

فواد چوہدری کی جانب سے ان کے وکیل قیصر امام نے دلائل دیے۔

سماعت کے بعد ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضانت مںظور کر لی گئی۔

خیال رہے  فواد چوہدری کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں دھوکہ دہی کا مقدمہ درج ہوا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے 14 نشستوں میں نتائج روکنے کے خلاف درخواستیں خارج کر دیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس باقر نجفی نے درخواستیں خارج کیں۔

جن حلقوں کے نتائج کو چیلینج کر دیا گیا تھا ان میں این اے 117 علیم خان، این اے 119 مریم نواز ،این اے 126 ملک سیف الملوک کھوکھر، این اے 127 عطا تارڑ، این اے 128 عون چوہدری، این اے 117 خواجہ آصف، این اے 80 شاہد عثمان، این اے 87 ملک شاکر بشیر اعوان، پی پی 167 عرفان شفیع کھوکھر، پی پی 169 ملک خالد کھوکھر، پی پی 46 فیصل اکرام، پی پی 47 چوہدری محمد منشا، پی پی 53 سے رانا عبد الستار اور پی پی 170 کے حلقے شامل ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پیر کو ایوان صدر میں ملاقات کی۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن اور عمیر نیازی نے صدر عارف علوی سے ایوان صدر میں ملاقات کی۔

ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے صدر مملکت کو آگاہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے