پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی کہانی کسی تجربہ گاہ سے کم نہیں۔ ملک میں ایسے کرکٹ تجزیہ کار اور سابق کھلاڑی جو مثبت سوچ رکھتے ہوں، آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اگر کبھی آپ کا سامنا پی سی بی کے کسی بڑے افسر سے ہو جائے اور وہ چند منٹ کے لیے آپ سے گفتگو پر راضی بھی ہو جائیں، تو اُن کا شکوہ اور شکایت سن کر آپ کو یہ یقین

ہو جائے گا کہ پی سی بی کے حالات واقعی دگرگوں ہیں۔
محسن نقوی، جو نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنی برق رفتار خدمات کے باعث ’’محسن اسپیڈ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے، اب پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ نجم سیٹھی کے بعد دوسرے صحافی ہیں جو اس مقام تک پہنچے ہیں۔
تاہم، اب انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اس عہدے کے لیے صحیح انتخاب تھے۔ مگر سچ پوچھیں، ہمارے ملک میں کتنے چیئرمین پی سی بی انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے ہیں؟ لہٰذا اس بحث کو یہیں ختم کر دیتے ہیں۔
حالات واقعی نازک ہیں، چاہے وہ ملک کے ہوں یا کرکٹ ٹیم کے۔ ایک طرف ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، IMF کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑ رہا ہے، تو دوسری طرف کرکٹ بورڈ کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اربوں روپے کا ریونیو ملنے کے باوجود مستقبل کے حوالے سے سنگین خدشات لاحق ہیں۔
پی سی بی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے چیئرمین کے اردگرد موجود افسران ہیں، جو ہر نئے چیئرمین کا استقبال ایسے کرتے ہیں جیسے اگر وہ نہ آتے تو بورڈ دیوالیہ ہو جاتا۔ پھر یہی افسران اس چیئرمین کو ایسی خوش فہمیوں میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ اُنہیں اصل مسائل دکھائی ہی نہیں دیتے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اپنے مشیر کرکٹ امور وقار یونس اور چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے ٹورنامنٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان ٹورنامنٹس کو بورڈ کے آئین کا حصہ بنا دیں گے تاکہ یہ مستقل چلتے رہیں۔ لیکن، پریس کانفرنس میں کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ گزشتہ 30 سال میں بورڈ کا آئین کئی بار تبدیل ہو چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر چیئرمین بورڈ میں نئے ٹورنامنٹس اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں تجربات کو پاکستان کرکٹ کی بقاء سمجھتا ہے، یا پھر اُسے اعلیٰ افسران یہ راستہ دکھاتے ہیں۔
نجم سیٹھی نے 2016 میں پی ایس ایل کا کامیاب تجربہ کیا، 2019 میں احسان مانی نے زبردستی ڈومیسٹک کرکٹ میں چھ ٹیموں کا فارمیٹ متعارف کروایا، 2022 میں رمیز راجہ نے جونیئر کرکٹ لیگ کا ناکام تجربہ کیا، اور اب محسن نقوی ایک نیا ڈومیسٹک سیزن لے کر آئے ہیں جو یکم ستمبر 2024 سے شروع ہو کر 5 اگست 2025 کو ختم ہوگا۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس سے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کا فرق کم ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی درست سمت میں جا رہے ہیں؟
قائداعظم ٹرافی کے ساتھ چیمپئنز فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کے اضافے کا کیا جواز ہے؟ کیا پی ایس ایل کی کامیابی کے بعد ایک اور چیمپئنز ٹی 20 ٹورنامنٹ کروانا صحیح فیصلہ ہے؟ ہاں، چیمپئنز ون ڈے کپ کا آئیڈیا بہتر دکھائی دیتا ہے، لیکن کھلاڑیوں کو پورا سال مصروف رکھنے کے باوجود، وہ کچھ اضافی آمدنی کے بغیر ایک ’’ہنڈا‘‘ گاڑی بھی نہیں خرید سکیں گے۔
یہ تمام سوالات پی سی بی کی پالیسیوں کے حوالے سے ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیا پی سی بی ایک تجربہ گاہ ہے، یا پھر ایک ایسا ادارہ جہاں تبدیلیوں کی لہر ہر نئے چیئرمین کے ساتھ چلتی ہے؟ یہی سوالات ہمارے کرکٹ کے مستقبل کی تصویر کشی کرتے ہیں۔



